20

مغل کہاں سے آئے تھے

▬▬▬▬▬▬ஜ۩🏵️۩ஜ▬* █▓▒░▬▬▬▬▬▬ஜ۩🏵️۩ஜ▬▬▬▬▬▬مغل کہاں سے آئے تھے؟”” “” “” “” “” تحریر کا انتخاب فلاح دارین گروپ “” “” “”مغلوں کی تاریخ صیحح معنوں میں چینگیز خاں سے شروع ہوتی ہے۔ کیونکہ یہ مغلوں کا پہلا بادشاہ تھا۔ جس نے منگول سلطنت کی بنیاد رکھی۔ اسی نام یعنی منگول سے مغل نام نکلا ہے۔لفظ مغل منگول سے نکلا ہے۔ چونکہ عربی زبان میں گ کا حرف نہیں ہوتا۔ تو جب منگول عرب میں حملہ آوار ہوئے تو انہوں نے انہیں مغول کہنا شروع کیا۔ جس کی وجہ سے یہ قوم مغل بن گئی۔مغول یا منگول موجودہ منگولیا، روس اور چین اور خصوصاً وسط ایشیائی سطح مرتفع صحرائے گوبی کے شمال اور سائبیریا کے جنوب سے تعلق رکھنے والی ایک قوم ہے۔مغل اردو زبان میں جنوبی ایشیاء کے ایک قبیلہ یا ذات کا نام ہے جس کو فارسی اور عربی میں مغول لکھتے ہیں۔ بھارت، پاکستان، افغانستان، اور بنگلہ دیش سے متعلق ان لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو مغلوں نے مختلف ادوار میں وسط ایشیاء سے حملوں کے دوران آباد ہوئے- دیگر قومیں جیسا کہ ترک اور ایرانی تارکین وطن بھی یہاں آباد ہوئے۔ تمام وہ لوگ جو مغل نسب کا دعویٰ کرتے ہیں، مختلف وسطی ایشیائی ترکی مغول فوجوں کی اولادیں ہیں- چنگیز خان سے تیمور اور تیمور سے ظہیر الدین محمد بابر تک ایران اور جنوبی ایشیاء پر حملے کے نتیجے میں یہ لوگ یہاں قیام پذیر ہوئے-برنیئر ( ایک فرانسیسی مسافر جس نے مغل شہنشاہ اورنگزیب کے دور حکومت کے دوران ہندوستان کا دورہ کیا تھا۔) اس کے مطابق۔۔” قرون وسطی کے زمانے میں آل مغول نے مختلف فوجوں کے تحت جنوبی ایشیاء فتح کیا تھا- مغل اصطلاح ایران، قزل باشی، ترکی اور تارکین وطن کے لئے بھی استعمال کی جاتی تھی-“سترہویں صدی میں مغل لفظ مختلف گروہوں کی ایک بڑی تعداد کا احاطہ کرتا ہے۔ عام طور پر، بھارت کے تمام مرکزی ایشیائی تارکین وطن، ازبک، چغتائی، تاجک، قپچاق، برلاس، قازق، ترکمن، کرغزستان، اویغور یا افغانوں اور قفقاز کے تارکین وطن کے لئے بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ اس وقت مغولوں کی کل آبادی ایک کروڑ کے قریب ہے جو مغول زبان بولتے ہیں۔ منگولیا میں کل 2.7 ملین، چین کے ملحقہ صوبے میں 5 ملین اور روس میں ایک ملین منگول موجودہیں۔تاریخ عالم میں مغول کی اولین مشہور شخصیت چنگیز خان (پیدائش ١١٦٠ء، وفات: ١٢٢۷ء) تھی۔ اس نے چین کے مشرقی ساحلوں سے لے کر یورپ کے وسط تک ایک عظیم سلطنت قائم کی۔ یہ تاریخ عالم کی سب سے بڑی سلطنتوں میں سے ایک تھی جو مغرب میں ہنگری، شمال میں روس، جنوب میں انڈونیشیا اور وسط کے بیشتر علاقوں مثلاً افغانستان، ترکی، ازبکستان، گرجستان، آرمینیا، روس، ایران، پاکستان، چین اور بیشتر مشرق وسطی پر مشتمل تھی۔مغول یا منگول سلطنت تیرھویں اور چودھویں صدیوں میں ایشیاء میں قائم کی گئی۔ یہ سلطنت مشرقی یورپ تک پھیلی ہوئی تھی- ١٢٠٦ء میں چنگیز خان نے اپنے آپ کو مغول قوم کا حاکم اعلان کیا- جب وہ ١٢٢۷ء میں مرا تو وہ وسطی ایشیاء ، شمالی چین اور مشرقی فارس کا کچھ حصہ فتح کر چکا تھا – چنگیز خان كے بعد اس کے جانشینوں نے فتوحات کا سلسلہ جاری رکھا- یہاں تک كے منگول سلطنت مشرقی یورپ سے مغربی ایشیاء تک پھیل گئی جس میں مشرق وسطی اور وسطی ایشیاء بھی شامل تھے۔مغلوں میں دوسرا سب سے بڑا بادشاہ امیر تیمور لنگ (پیدائش: ١٣٣٦ء، وفات: ١۴٠۵ء) کو مانا جاتا ہے۔ تیمور ایک ترک قبیلے برلاس سے تعلق رکھتا تھا جس کا چنگیز خان کے خاندان سے قریبی تعلق تھا۔ تیمورلنگ کا تعلق سمرقند سے تھا۔ تیمور نے اپنی زندگی میں بیالیس (۴٢) ملک فتح کئے۔ وہ دنیا کے چند نادر لوگوں میں بھی شامل ہوتا ہے۔ فتوحات کی وسعت کے لحاظ سے تیمور کا شمار سکندر اعظم اور چنگیز خان کے ساتھ دنیا کے تین سب سے بڑے فاتح سپہ سالاروں میں ہوتا ہے۔ فتوحات کی کثرت میں وہ شاید چنگیز سے بھی بازی لے گیا۔ لیکن وہ مسلمان ہونے کے باوجود خونریزی اور سفاکی میں چنگیز خان اور ہلاکو خان سے کم نہیں تھا۔ دہلی، اصفہان، بغداد اور دمشق میں اس نے جو قتل عام کئے ان میں ہزاروں بے گناہ موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے۔ وہ انتقام کی شدت میں شہر کے شہر ڈھا دیتا تھا۔ خوارزم، بغداد اور سرائے کے ساتھ اس نے یہی کیا۔ صرف مسجد، مدرسے اور خانقاہیں غارت گری سے محفوظ رہتی تھیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں منگولوں کی طرح وہ بھی اللّٰہ کا عذاب تھا۔برصغیر پاک و ہند کی بات کی جائے تو شہنشاہ بابر کے دور سے مغلیہ سلطنت کا قیام ہوا۔ اور اس کے ساتھ مغل پورے برصغیر میں پھیل گئے اور ان کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ اور مغل پاک و ہند میں باقاعدہ بسنے شروع ہو گئے۔مغلیہ سلطنت ١۵٢٦ء سے ١٨۵۷ء تک برصغیر پر حکومت کرنے والی ایک مسلم سلطنت تھی جس کی بنیاد ظہیر الدین بابر نے ١۵٢٦ء میں پہلی جنگ پانی پت میں دہلی سلطنت کے آخری سلطان ابراہیم لودھی کو شکست دے کر رکھی تھی۔ مغلیہ سلطنت اپنے عروج میں تقریباً پورے برصغیر پر حکومت کرتی تھی، یعنی موجودہ دور کے افغانستان، پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے ممالک پر مشتمل خطے پر انکا دور دورہ تھا۔ایک ریسرچ پراجیکٹ کے مطابق مغل قوم کی تعداد ہمارے قریبی ممالک میں کچھ اس طرح ہے۔• بھارت میں چودہ لاکھ چھتر ہزار۔• پاکستان میں گیارہ لاکھ پچاس ہزار• بنگلہ دیش میں انتالیس ہزار• افغانستان میں تقریبا دو سو• نیپال میں تقریبا ایک ہزار

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں