28

🌺 *بہن کے گھر کی چائے* 🌺

▬▬▬▬▬▬ஜ۩🏵️۩ஜ▬▬▬▬▬▬░▒▓█  *تحریر انتخاب فــــلاحِ داریـن گـــروپ*  █▓▒░▬▬▬▬▬▬ஜ۩🏵️۩ஜ▬▬▬▬▬▬🌺 *بہن کے گھر کی چائے* 🌺باجی کے گھر میں جانا ہوا، چائے بنا کر لائی۔ ذائقہ بڑا بھلا محسوس ہوا، میں نے کہا: باجی چائے تو بہت مزیدار بنائی ہے آپ نے۔ باجی کے چہرے پر طمانیت بھری ایک مسکراہٹ پھیل گئی، خوشی پھوٹتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی اور مجھے نور کا ایک ہالہ اُن کے چہرے پر بن گیا محسوس ہوا۔ آخر یہ یہ اچھی بات انسانی جسم پر اثر کیا کرتی ہے؟مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں ایک بار کسی کام کیلیئے ایک سرکاری دفتر گیا۔ جس بندے سے کام تھا اس کی کیفیت سے لگتا تھا کہ ساری دھرتی کا بوجھ اس کے سر پر لدا ہوا ہے۔ میں اس کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ گیا لیکن وہ خشک اور سپاٹ چہرے کے ساتھ کاغذوں میں الجھا اپنے کام میں مگن رہا۔ مجھے ایسے لگ رہا تھا کہ یہ شخص کبھی بھی نہیں مسکراتا ہوگا۔ میں نے اُسے آہستگی سے کہا: آپ کی قمیض (شرٹ) تو بہت پیاری ہے۔ وہ شخص میری بات پر پہلے چونکا، پھر مسکرا دیا اور مجھ سے کہنے لگا: واقعی! میں نے کہا: بخدا سچ کہہ رہا ہوں اور آپ کی جیکٹ تو شرٹ سے بھی زیادہ پیاری ہے۔ تھوڑی دیر پہلے جس شخص کے چہرے پر تشنج کی سی کیفیت طاری تھی اب اس کے چہرے کے عضلات ڈھیلے پڑے اور اُس نے میرے ساتھ مسکراتے ہوئے بات چیت شروع کر دی۔ ایک اور دفعہ بھی کچھ ایسا ہوا کہ میں نے ایک نوجوان کی اقتداء میں نماز ادا کی۔ مجھے اس نوجوان کی خوبصورت قرات میں بڑا قلبی سکون ملا۔ میں نماز پڑھ کر مسجد سے باہر نکل کر اُس کے نکلنے کا انتظار کرتا رہا۔ جیسے ہی وہ باہر آیا تو میں نے اس کی طرف بڑھ کر اُس سے گرمجوشی کے ساتھ ہاتھ ملایا اور کہا: بخدا آپ کی آواز بہت پیاری ہے اور تلاوت تو بس ایسی کہ سنتے رہو اور کبھی دل بھی نہ بھرے۔ میں نے اس نوجوان کے چہرے پر ایک پکی پکی مسکراہٹ نقش کر دی تھی۔ اور اس کے جانے کے بعد اسے دیکھتے ہوئے لگ رہا تھا وہ چل نہیں، ہوا میں اُڑ رہا تھا۔ اچھا: میں مزید کچھ کہنے سے پہلے، آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ کو کسی کی دلجوئی، حوصلہ افزائی یا تحسین کیلیئے ایک جملہ بول دینے میں کیا رکاوٹ پیش آتی ہے؟دوسری طرف یہ عالم ہے کہ لوگ حوصلہ افزائی، تعریف و تحسین اور دلجوئی کیلیئے اچھا کلمہ بولنے میں جتنے ہی بخیل کیوں نہ ہوں؛ بغض و عناد میں، بھد اڑانے میں، پھبتی کسنے میں اور کسی کی مٹی پلید کرنے میں ایک منٹ کی بھی دیر نہیں لگاتے اور جان نکالتا، دل توڑتا اور روح کو زخمی کرتا فقرہ پھینکتے گزر جاتے ہیں۔ “کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے پاک بات کی کیسی مثال بیان فرمائی ہے (وہ ایسی ہے) جیسے پاکیزہ درخت جس کی جڑ مضبوط (یعنی زمین کو پکڑے ہوئے) ہو اور شاخیں آسمان میں”. ابراہیم – 24)دیکھیئے: اچھی بات کو دل میں نہ دبائیے۔ کہہ دیجیئے، تعریف کر دیجیئے، جسے پسند کیا اس کیلیئے دعا کر دیجیئے اور اس کے حق میں خیر مانگیئے۔ ہر اچھی بات بھی عبادت کی طرح اور تحفے کی مانند ہوتی ہے۔ “اور ان کو پاکیزہ کلام کی ہدایت کی گئی” (الحج-24)دیکھیئے: ایک اچھی بات بھی صدقہ ہوتی ہے اور یہی حکم ربی بھی ہے: “اور لوگوں سے اچھی باتیں کہنا”(البقرۃ-82)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں